مجوزہ ترامیم کے تحت پنجاب پراپرٹی ٹربیونل کے قیام کو عملی جامہ پہنایا جائے گا، جہاں پراپرٹی سے متعلق تنازعات اب براہِ راست دائر کیے جا سکیں گے۔ ٹربیونل میں ایڈیشنل سیشن جج (ان سروس) بطور پریذائیڈنگ آفیسر تعینات ہوں گے۔ ٹربیونل کیس کو رپورٹ کے لیے سکروٹنی کمیٹی کو بھجوانے کا اختیار رکھے گا، جو 30 دن میں رپورٹ پیش کرے گی، جبکہ 15 دن کی توسیع بھی ممکن ہو گی۔
ترامیم کے مطابق ٹربیونل کو عبوری ریلیف دینے اور کیس کے دوران حفاظتی و احتیاطی اقدامات کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔ غیر قانونی قبضے کی صورت میں 5 سے 10 سال قید، ایک کروڑ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ قبضہ مافیا کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
بل میں جھوٹی، بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی درخواستوں کے خلاف بھی سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ جھوٹی شکایت پر 1 سے 5 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ ٹربیونل کو قانونی مالک کو قبضہ واپس دلانے اور فیصلے کے فوراً بعد جائیداد بحال کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔
مجوزہ ترامیم کے تحت سکروٹنی کمیٹی کو از خود ریفرنس بھیجنے کا اختیار ختم کر دیا گیا ہے جبکہ پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کا سیکشن 10 بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ عبوری احکامات کے خلاف اپیل یا نظرثانی کی اجازت نہیں ہوگی۔
قانون کے مطابق اپیل صرف لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی جا سکے گی، جس کے لیے پراسیکیوٹر جنرل کی منظوری لازم ہوگی۔ اپیل 30 دن کے اندر دائر کرنا ہو گی اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے نامزد کردہ بینچ کے سامنے سنی جائے گی، جو 30 دن میں اپیل نمٹانے کا پابند ہوگا۔ بیل سے متعلق درخواستیں بھی لاہور ہائیکورٹ میں ہی سنی جائیں گی۔
مزید برآں، ٹربیونل کو متعلقہ جرائم کو ایک ہی ٹرائل میں نمٹانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ حکومت کے مطابق ان ترامیم کا مقصد غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ اور جائیداد کے اصل مالکان کو فوری اور مؤثر انصاف کی فراہمی ہے۔



