یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور سے وابستہ پاکستانی سائنسدانوں کی نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خون میں ہونے والی معمولی کیمیائی تبدیلیوں کے ذریعے خون کے خطرناک سرطان ایکیوٹ مائیلائیڈ لیوکیمیا (AML) کی بروقت تشخیص اور علاج کی نگرانی ممکن ہے۔
یہ تحقیق معروف عالمی سائنسی جریدے "سائنٹیفک رپورٹس” (اسپرنگر نیچر) میں شائع ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس بیماری کے علاج میں نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے، تاہم ہر مریض پر دوا کا اثر کس حد تک ہوگا یہ اندازہ لگانا تاحال مشکل ہے۔
تحقیقی ٹیم میں شبیر حسین، ڈاکٹر فرحت بانو اور ڈاکٹر محمد آصف نوید شامل تھے۔ ماہرین نے 56 لیوکیمیا کے مریضوں کے خون کے نمونے علاج سے پہلے اور بعد میں حاصل کرکے صحت مند افراد کے نمونوں سے موازنہ کیا۔ جدید ٹیکنالوجی "این ایم آر اسپیکٹروسکوپی” کے ذریعے کیے گئے تجزیے سے معلوم ہوا کہ خون میں انتہائی معمولی کیمیائی تبدیلیاں بھی شناخت کی جا سکتی ہیں۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق AML کے مریضوں کے خون میں چکنائی، امینو ایسڈز اور شوگر سے توانائی حاصل کرنے کے عمل میں نمایاں تبدیلیاں پائی گئیں۔ مزید یہ کہ بعض مخصوص میٹابولائٹس ایسے ہیں جو ان مریضوں کی شناخت میں مددگار ثابت ہوتے ہیں جو کیموتھراپی کے بعد صحتیاب ہو رہے ہیں۔
شبیر حسین کو اس تحقیق پر بایو کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق AML کے مریضوں کے لیے علاج کو ذاتی نوعیت کا بنانے کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔
ڈاکٹر محمد آصف نوید نے کہا کہ یہ کیمیائی علامات لیوکیمیا کی جلد تشخیص اور علاج کی نگرانی کے لیے ایک مفید ٹول ثابت ہو سکتی ہیں، جس سے علاج کے فیصلوں میں تاخیر کم ہوگی اور مریض کی انفرادی حالت کے مطابق بہترین علاج ممکن ہو سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ہر مریض کی انفرادی حیاتیاتی ساخت کے مطابق کینسر کا بہتر اور مؤثر علاج فراہم کیا جا سکتا ہے۔



