ٹیکنالوجی کی دیوہیکل کمپنی ایمیزون نے تین سال بعد اپنی پہلی امریکی ڈالر بانڈ فروخت کے ذریعے 15 ارب ڈالر جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیشرفت پیر کے روز امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں دائر کی گئی فائلنگ کے ذریعے سامنے آئی، جب بڑی ٹیک کمپنیاں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کے قرضی فنڈز اکٹھے کرنے پر مجبور کردیا ہے، تاکہ ڈیٹا سینٹرز، چِپس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی صلاحیت کو مزید وسعت دی جا سکے۔ایمیزون نے چھ حصوں پر مشتمل بانڈ سیل کا اعلان کیا ہے، جس سے حاصل ہونے والی رقم کمپنی مختلف مقاصد—خریداریوں، سرمایہ جاتی اخراجات اور شیئر بائی بیکس—کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔بلومبرگ کے مطابق بانڈ کے اجرا میں سرمایہ کاروں کی زبردست دلچسپی دیکھنے میں آئی اور طلب 80 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 40 سالہ ٹینور والے بانڈ کی قیمت کے لیے ٹریژریز کے مقابلے میں اسپریڈ 1.15 فیصد سے کم ہو کر 0.85 فیصد رہ گیا۔گزشتہ ماہ میٹا پلیٹ فارمز نے اپنی اب تک کی سب سے بڑی بانڈ سیل (30 ارب ڈالر تک) کا اعلان کیا تھا، جبکہ اوریکل بھی 15 ارب ڈالر تک کے بانڈ جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ مورگن اسٹینلی کے تخمینوں کے مطابق، میٹا، ایمیزون اور گوگل سمیت بڑی ٹیک کمپنیاں صرف رواں سال اے آئی انفراسٹرکچر پر 400 ارب ڈالر خرچ کر سکتی ہیں۔
ایمیزون کی جانب سے اے آئی میں سرمایہ کاری گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ چکی ہے، اور صرف رواں سال اس کے کیپیٹل اخراجات تقریباً 125 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو آئندہ سال مزید بڑھ سکتے ہیں۔ کمپنی نے حال ہی میں اوپن اے آئی کے ساتھ 38 ارب ڈالر کے بڑے معاہدے کا اعلان بھی کیا ہے، جس سے اس کی کلاؤڈ سروسز کو وہ تقویت ملنے کی امید ہے جو وہ مائیکروسافٹ اور گوگل کے مقابلے میں کھو رہی تھی۔



