صوبائی وزیر توانائی ملک فیصل ایوب کھوکھر کی زیر صدارت توانائی سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے حالیہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران صوبائی وزیر کو توانائی منصوبوں، بھرتیوں اور سرمایہ کاری سے متعلق جامع بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب گرڈ کمپنی میں خالی آسامیوں پر بھرتی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جبکہ قومی اخبارات میں بھرتیوں کے اشتہارات بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔ صوبائی وزیر کو آگاہ کیا گیا کہ ویسٹ ٹو انرجی منصوبہ صرف ای بسوں اور اورنج لائن کو بجلی فراہم کرنے کے لیے مختص ہوگا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ 50 میگاواٹ کے منصوبے کے لیے غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس موقع پر گرمالا کیس کو فاسٹ ٹریک پر آگے بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔صوبائی وزیر توانائی نے وزیراعلیٰ فری سولر اسکیم کو 28 فروری تک مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس صنعتی اسٹیٹس میں قائم کیے جائیں۔ انہوں نے تمام توانائی منصوبوں میں شفافیت اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔
ملک فیصل ایوب کھوکھر نے واضح کیا کہ ہر اسٹیشن پر جدید سولر اور بیٹری سسٹم کی تنصیب لازمی قرار دی جائے گی۔ اجلاس میں اے پی ٹی ایم اے کی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا جبکہ صنعتی کلسٹرز کو آف گرڈ اور بلک موڈ میں بجلی کی فراہمی سے متعلق امور پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ شمسی توانائی کے ممکنہ مقامات کی فہرست اے پی ٹی ایم اے کو فراہم کر دی گئی ہے اور اب تک 65 ہزار سے زائد سولر یونٹس نصب کیے جا چکے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ چھ بائیو گیس اور بائیو فرٹیلائزر پلانٹس کی منظوری مل چکی ہے جبکہ لاہور اور فیصل آباد میں نئے بائیو گیس منصوبے لگائے جائیں گے۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ تین ماڈل دیہات میں کمیونٹی بائیو گیس پلانٹس کا پائلٹ منصوبہ جلد شروع کیا جائے گا۔



