پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن عملاً غیرفعال ہو کر رہ گئی ہے اور احتجاجی سیاست کی کوئی مؤثر حکمتِ عملی بنانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ اپوزیشن کو پنجاب اسمبلی کی تاریخ کی سب سے غیر فعال اپوزیشن قرار دیا جا رہا ہے، جو ایوان کے اندر اور باہر اپنا مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔ذرائع کے مطابق مالی سال 2025-26 کے گوشوارے جمع نہ کرانے کے باعث اپوزیشن کے متعدد ارکانِ اسمبلی معطل ہو گئے، جس کے نتیجے میں اپوزیشن نہ صرف ایوان میں عددی طاقت کھو بیٹھی بلکہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرانے کا آئینی استحقاق بھی ختم ہو گیا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے 93 ارکان کی ریکوزیشن درکار ہوتی ہے، تاہم ارکان کی معطلی کے باعث اپوزیشن یہ تعداد پوری کرنے سے قاصر رہی۔گوشوارے جمع نہ کرانے پر اپوزیشن لیڈر سمیت 12 ارکانِ اسمبلی کو معطل کیا گیا، جس سے اپوزیشن کی پارلیمانی سرگرمیاں مزید متاثر ہوئیں۔ اپوزیشن نے اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفے تو دے دیے، تاہم ان استعفوں کی منظوری نہ ہو سکی۔اپوزیشن کی غیر موجودگی اور کمزور حکمتِ عملی کے باعث پنجاب اسمبلی میں یکطرفہ قانون سازی کا سلسلہ جاری رہا۔ حکومتی بنچوں نے اپوزیشن کے بغیر پنجاب اسمبلی سے 28 بل منظور کروا لیے، جبکہ اپوزیشن چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کی اہم نشست سے بھی محروم ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق ناقص حکمتِ عملی کے باعث اپوزیشن پنجاب اسمبلی کی 8 قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ بھی کھو بیٹھی، جس سے ایوان میں اس کا نگرانی اور احتساب کا کردار مزید کمزور ہو گیا۔



