وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر زرعی شعبے میں ایک اور انقلابی اقدام کے تحت “ایگریکلچر لیب آن ویل” کے منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد زرعی سروسز اور جدید سہولیات کو براہِ راست کاشتکاروں کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔
کاشتکاروں کی سہولت کے لیے قائم کی جانے والی منفرد ایگریکلچر لیب آن ویل کے تحت پنجاب کے 15 اضلاع میں موبائل لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی۔ ان موبائل لیبز کے ذریعے کاشتکار موقع پر ہی مٹی اور پانی کے تجزیے کی رپورٹ حاصل کر سکیں گے، جس سے زمین کی زرخیزی اور فصلوں کی بہتر منصوبہ بندی ممکن ہو سکے گی۔
موبائل لیبارٹریوں کے ذریعے مٹی اور پانی کے نمونوں کا سائنسی تجزیہ کیا جائے گا تاکہ غذائی اجزا اور زرخیزی کا درست تعین ہو سکے۔ منصوبے کے تحت مرکزی کنٹرول روم قائم کیا جائے گا جہاں سے تمام موبائل لیبز کی مؤثر مانیٹرنگ کی جائے گی۔
ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کی توسیعی خدمات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پنجاب کے تمام اضلاع میں 100 کنٹینرز پر مشتمل کسان مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔ ان کنٹینر کسان مراکز میں ڈیٹا کال سنٹرز، ایگریکلچر آفیسرز، جدید ڈیجیٹل آلات اور دیگر ضروری سہولیات دستیاب ہوں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ کسانوں کو دہلیز پر فوری اور درست زرعی آگاہی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ جدید تقاضوں کے مطابق فیصلے کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان دوست اقدامات کے نتیجے میں رواں سیزن گندم کی ریکارڈ پیداوار متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے کسان کارڈ، ٹریکٹر اسکیم سمیت درجنوں منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے، جن کا مقصد زرعی شعبے کی ترقی اور کسان کی خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔



