واشنگٹن / تہران (ویب ڈیسک) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جو بھی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کاروبار کرے گا، اسے امریکہ کے ساتھ ہونے والی تمام تجارت پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے اس حکم کو "فوری طور پر نافذ العمل” قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ حتمی اور ناقابلِ تنسیخ ہے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں لکھا: "Effective immediately, any Country doing business with the Islamic Republic of Iran will pay a Tariff of 25% on any and all business being done with the United States of America. This Order is final and conclusive.”یہ اقدام ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں اور ان کے خلاف شدید کریک ڈاؤن کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، دسمبر کے آخر سے شروع ہونے والے ان مظاہروں میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں (مختلف رپورٹس میں 490 سے 600 کے قریب اموات کی تصدیق کی گئی ہے)، جبکہ ہزاروں افراد گرفتار ہیں۔ ایران میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدمات پر مکمل پابندی عائد ہے، جس کی وجہ سے صورتحال کی آزادانہ تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔یہ ٹیرف ممکنہ طور پر ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں جیسے چین، بھارت، ترکی، عرب متحدہ امارات، عراق، روس اور برازیل کو متاثر کر سکتا ہے، جو ایران کے ساتھ اربوں ڈالر کا کاروبار کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے عالمی تجارت پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر امریکی درآمد کنندگان کو اضافی لاگت کا سامنا کرنا پڑے گا۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بتایا کہ سفارت کاری اب بھی پہلی ترجیح ہے، لیکن صدر ٹرمپ نے مظاہرین کے خلاف تشدد کی صورت میں فوجی آپشنز پر بھی غور کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے پہلے بھی ایرانی حکومت کو سخت انتباہ جاری کیا تھا کہ مظاہرین کو قتل کرنے کی صورت میں امریکہ مداخلت کرے گا۔ایرانی حکام نے اس اعلان کو "معاشی جارحیت” قرار دیتے ہوئے امریکہ کے خلاف جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے ۔



