پاکستان اور ایران کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جس کا مسودہ اس وقت پاکستانی حکام کے داخلی جائزے کے مراحل میں ہے۔ معاہدے کی باضابطہ منظوری آئندہ دنوں میں دیے جانے کا امکان ہے۔یہ پیش رفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مغدّم کی ملاقات کے دوران سامنے آئی، جس میں دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جام کمال خان نے بتایا کہ اسلام آباد میں دستخط شدہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کا متن داخلی منظوری کے بعد نافذ العمل کیا جائے گا۔ انہوں نے ایرانی کمپنیوں کو 25 سے 27 نومبر 2025 تک کراچی ایکسپو سینٹر میں ہونے والی فوڈاَیگ نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
ایرانی سفیر نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ کوئٹہ اور زاہدان کے درمیان پروازوں کی بحالی سے عوامی روابط اور تجارت میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے 4 لاکھ ٹن چاول کی درآمد مکمل کر لی ہے جبکہ اب 50 ہزار ٹن جانوروں کے چارے اور 2 لاکھ ٹن مکئی کی خریداری کے لیے تیار ہے۔ جام کمال نے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی دوروں کے انعقاد کی تجویز دی، جن میں وزیراعلیٰ بلوچستان اور گورنر زاہدان کے تبادلۂ دورے بھی شامل ہوں، تاکہ سرحدی علاقوں کے عوام کے معاشی حالات بہتر بنائے جا سکیں۔ وفاقی وزیرِ تجارت نے اس امر پر زور دیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان مثبت روابط کے نتیجے میں اقتصادی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایرانی سفیر کا شکریہ ادا کیا کہ پاکستان کی جانب سے بارٹر ٹریڈ میکانزم میں کی گئی ترامیم کو سراہا گیا ہے۔دونوں فریقین نے اپنے قائدین کے اُس مشترکہ وژن پر اطمینان کا اظہار کیا جس کے تحت 2028 تک سالانہ دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ جام کمال خان نے مزید کہا کہ وزارتِ تجارت، ایف بی آر اور وزارتِ مواصلات سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ ایرانی ٹرکوں کے داخلے سے متعلق مسائل حل کرنے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان۔ایران جوائنٹ بزنس کونسل کی بحالی اور بقیہ سرحدی مارکیٹوں کی جلد فعالیت پر بھی زور دیا۔ وفاقی وزیر نے غیر محصولاتاتی رکاوٹوں کے خاتمے، نباتاتی تحفظ کے اداروں (NPPOs) اور قرنطینہ ایجنسیوں کے مابین قریبی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا تاکہ تجارتی سہولتوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے



