یونائیٹڈ نیشنز ویمن پاکستان نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں کے تعاون سے خواتین کے خلاف صنفی تشدد کے خاتمے کیلئے عالمی 16 روزہ مہم کے سلسلے میں جمعرات کو ایک اعلیٰ سطحی تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب کا عنوان “فنانشل اور ڈیجیٹل شمولیت: محفوظ معیشتوں کا راستہ” تھا، جو اسٹیٹ بینک کے مرکزی بینکنگ ہال میں منعقد ہوئی۔تقریب کا مقصد پاکستان میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل تشدد کے پس منظر میں خواتین کی محفوظ ڈیجیٹل فنانس تک رسائی مضبوط بنانا اور ٹیکنالوجی کے ذریعے بااختیار بنانے کو فروغ دینا تھا۔اس موقع پر یون ویمن کی گُڈ وِل ایمبیسڈر اور اداکارہ ہانیہ عامر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی خود مختاری تبھی ممکن ہے جب آن لائن اور آف لائن دونوں محاذوں پر انہیں محفوظ ماحول دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ“آن لائن رویوں کو ازسرِنو ترتیب دینے اور مضر سماجی Norms کو چیلنج کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خواتین بلا خوف سیکھ سکیں، کام کر سکیں اور اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔”تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، مالیاتی و کارپوریٹ اداروں کے سربراہان، خواتین کاروباری شخصیات، سول سوسائٹی نمائندگان، اقوامِ متحدہ کے حکام اور نوجوان وکلا شریک ہوئے۔ تمام شرکاء نے خواتین اور بچیوں کے لیے جامع ڈیجیٹل اور مالیاتی نظام کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا۔یون ویمن ریجنل ڈائریکٹر کرسٹین عرب نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ“مالیاتی اور ڈیجیٹل رسائی خواتین کا بنیادی حق ہے۔ جب ہم ایسے نظام تشکیل دیتے ہیں جو خواتین کی پرائیویسی، تحفظ اور معاشی خودمختاری کی ضمانت دیں، تو ہم نہ صرف خاندانوں بلکہ پوری معیشت کو مضبوط کرتے ہیں۔”تقریب کا آغاز ڈیجیٹل انوویشن شوکیس سے ہوا جس میں سکھر اور خیرپور کی خواتین کاروباری افراد نے پیش کیا کہ کس طرح وہ ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف اپنا روزگار بہتر بنا رہی ہیں بلکہ کمیونٹیز کو مضبوط اور ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ طریقے سے آگے بڑھ رہی ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے خطاب میں کہا کہ
“ڈیجیٹل ادائیگیاں اور مالیاتی خدمات خواتین کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لا سکتی ہیں، لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب اعتماد اور تحفظ کی مکمل ضمانت ہو۔”



