سرکاری محکمے ارکانِ اسمبلی کے تحریری سوالات کے جوابات بروقت جمع کرانے میں مسلسل ناکام دکھائی دے رہے ہیں اور تاخیر کی روایت بدستور برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق سوالات کی درست، مکمل اور حقائق پر مبنی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان متعدد مواقع پر برہمی کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود صورتحال میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔
محکمہ سیاحت، آثارِ قدیمہ و عجائب گھر بھی دیگر سرکاری محکموں کی طرح ایک بھی سوال کا جواب مقررہ وقت پر جمع کرانے میں ناکام رہا۔ سوالات کے جوابات میں تین ماہ سے زائد تاخیر معمول بنتی جا رہی ہے، جس پر ارکانِ اسمبلی میں تشویش پائی جاتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد سرکاری محکمے تو ارکان اسمبلی کے سوالات کو خاطر میں ہی نہیں لاتے، جبکہ بعض سوالات کے جوابات میں تفصیلات غیر تسلی بخش ہوتی ہیں اور کئی مواقع پر غلط بیانی بھی سامنے آئی ہے۔
اسمبلی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری محکموں کی جانب سے اس رویے کا سلسلہ جاری رہا تو پارلیمانی نگرانی اور عوامی مسائل کے حل کا عمل شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔



