نیویارک ( انٹر نیشنل ڈیسک )اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان نے اسرائیل کی جانب سے خود مختار جمہوریہ صومالی لینڈ کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے اعلان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور صومالیہ کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا یہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام صومالیہ کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں پر براہ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کونسل کو آگاہ کیا کہ اسرائیل غزہ سے فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کرکے صومالی لینڈ منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔سفیر جدون نے زور دیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی کسی بھی شکل میں بے دخلی یا جبری منتقلی کی کوششوں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کے ذریعے حل کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ صومالی حکومت ملک میں استحکام کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے، مگر اسرائیل کا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، سالمیت اور علاقائی یکجہتی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔یاد رہے کہ اسرائیل نے 26 دسمبر کو صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر آزاد اور خود مختار ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا، جو دنیا کا پہلا ملک بن گیا جس نے یہ قدم اٹھایا۔ اس اقدام پر صومالیہ سمیت متعدد مسلم ممالک، افریقی یونین، عرب لیگ اور یورپی یونین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔سلامتی کونسل کا یہ ہنگامی اجلاس صومالیہ کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا، جس میں متعدد رکن ممالک نے اسرائیلی اقدام کو خطے کی امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔ پاکستان نے کونسل سے اپیل کی کہ وہ صومالیہ کی یکجہتی کو نقصانپہنچانے والے تمام اقدامات کومسترد کر دیا ۔



