پنجاب اسمبلی کا اجلاس تین گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر کی زیر صدارت شروع ہوا اجلاس کے دوران حکومت نے اپوزیشن پر جھوٹ بولنے اور ایوان کا ماحول خراب کرنے کا الزام لگایا، جبکہ اپوزیشن نے حکومتی مؤقف کو دوغلا قرار دیا، جس پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئے
اپوزیشن نے ناصر چیمہ کے بیٹے کی گرفتاری، سیاسی انتقام، احتجاج اور بسنت پر پابندی کے معاملے کو دوبارہ اٹھاتے ہوئے حکومت پر کڑی تنقید کی وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمان نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بسنت کو سیاست سے دور رکھا جائے اگر اسے فیسٹیول رہنے دیا گیا تو کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی، تاہم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کی گئی تو قانون حرکت میں آئے گا
ایوان میں شور شرابے کے دوران وقفہ سوالات میں معاملہ مزید گرم ہو گیا، جب محکمہ ہاؤسنگ کے سیکرٹری کی عدم موجودگی پر ڈپٹی اسپیکر نے پارلیمانی سیکرٹری کو آڑے ہاتھوں لے لیا پارلیمانی سیکرٹری کی وضاحت کے باوجود اسپیکر نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سیکرٹری یا کم از کم سپیشل سیکرٹری کی موجودگی کے بغیر ایوان کی کارروائی شروع نہیں ہوگی
سپیکرپنجاب اسمبلی نے کہا مریم نواز نے تاریخ میں اتنے پیسے نہیں دئیے جتنے آج مل رہے ہیں اس کے باوجود لاکھوں لوگوں کو گندا پانی پینے کو مل رہا ہے ارکان اسمبلی کے متعلق جو بھی سوالات ہیں وہ کمیٹی کو ریفر کر کے اجلاس جمعرات دوپہر دو بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا



