وزیراعلیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سے خطاب کرتے ہوئے فوری عملدرآمد کے احکامات جاری کیے۔
اجلاس میں 9 ڈویژنز کے 1197 مقامات پر واٹر ہائیڈرنٹ نصب کرنے کی ہدایت دی گئی جبکہ ریسکیو 1122 میں نیا فائر انسپکٹوریٹ یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آتشزدگی کے سدباب کے لیے جدید ترین ہائی ایکسپنشن فوم جنریٹر کے استعمال کی منظوری بھی دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے بڑی عمارتوں میں سموک ڈیٹیکٹر، سی سی ٹی وی کیمرے، فرسٹ ایڈ اور آکسیجن سلنڈر کی موجودگی لازمی قرار دی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہر ملٹی اسٹوری اور کمرشل عمارت میں واٹر ہائیڈرنٹ نصب کرنے، ایمرجنسی انخلاء کے لیے بیرونی حصے میں ہوادار سیڑھیاں بنانے اور واٹر ہائیڈرنٹ کے نرخ لاک کرنے کی بھی ہدایت کی۔ لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ سمیت گنجان بازاروں میں تجاوزات اور رکاوٹیں فوری ختم کرنے کا حکم دیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کیمیکل، گتے، کپڑے اور سلنڈر کی مارکیٹوں میں آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت دی جائے گی جبکہ تمام اضلاع میں ہر ماہ فائر سیفٹی کی تیاری کے لیے فرضی مشقیں کی جائیں گی۔ سرکاری و نجی عمارتوں میں آگ بجھانے والے آلات کی موجودگی اور ان کی ایکسپائری چیک کرنا لازمی ہوگا، خلاف ورزی پر عمارت سیل کرنے اور مالکان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے فائر سیفٹی ڈرل کے انعقاد کو کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے کے پی آئیز میں شامل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فائر سیفٹی اقدامات پر دکھاوے کے بجائے مؤثر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 ایک انتہائی اہم ادارہ ہے اور اس کی استعداد کار، آلات اور تربیت کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گل پلازہ سانحہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت اس دکھ کی گھڑی میں حکومت سندھ، کراچی کے عوام اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور میں حالیہ آتشزدگی کے وقت ہوٹل کی 25 منزلہ عمارت میں 300 افراد موجود تھے اور بروقت ایس او پیز پر عملدرآمد اور ریسکیو اداروں کے فوری ردعمل کے باعث ایک بڑی ٹریجڈی رونما ہونے سے بچ گئی۔
انہوں نے ریسکیو ٹیموں، ڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان اور تمام اداروں کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ سیف سٹی کیمروں کے ذریعے آپریشن کی مانیٹرنگ کی گئی اور تمام اداروں نے ایک یونٹ بن کر فلڈ آپریشن کی طرز پر کام کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قریبی فائر ہائیڈرنٹ آپریشنل ہونے اور جدید ہائی ایکسپنشن فوم جنریٹر کے استعمال سے تباہی ٹل گئی۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ ہوٹل مالکان سانحے میں جاں بحق ہونے والے افراد کو فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ ادا کریں۔ انہوں نے کمرشل عمارتوں میں ایمرجنسی خارجی راستوں کے غلط استعمال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر عمارت میں فائر سیفٹی آلات نہ صرف موجود بلکہ فنکشنل ہونے چاہئیں۔
وزیراعلیٰ نے صوبہ بھر میں سلنڈروں کی انسپکشن، غیر معیاری سلنڈر بنانے اور فروخت کرنے والے اداروں کو سیل کرنے، آٹو میٹک اسپرنکل سسٹم نصب کرنے، بے ہنگم لٹکتے تاروں کے خاتمے، بیسمنٹ میں بوائلرز اور آتش گیر مواد ذخیرہ کرنے پر پابندی اور محفوظ جگہ پر ویلڈنگ کی سخت ہدایات جاری کیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کمرشل عمارتوں میں فائر ہائیڈرنٹ نصب کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی جا رہی ہے، اس کے بعد بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔



