اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر توانائی فیصل ایوب کھوکھر نے کہا کہ لیسکو، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور پیمرا باہمی اشتراک سے ایک مربوط حکمت عملی طے کریں گے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اپنی ذمہ داریوں کے واضح تعین کے ساتھ عملدرآمد کے لیے ٹھوس اور قابلِ عمل ٹائم لائن پیش کریں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ لیسکو کے کھمبوں پر ٹی وی اور ڈیٹا کیبل آپریٹرز کی تاریں ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہیں جبکہ سینکڑوں غیر لائسنس یافتہ کیبل آپریٹرز صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ شاہ عالم مارکیٹ، اچھرہ، مون مارکیٹ، لبرٹی مارکیٹ، برکت مارکیٹ اور ٹھوکر نیاز بیگ کو ابتدائی مرحلے میں ٹارگٹ کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر توانائی نے لیسکو انفراسٹرکچر پر غیر ضروری اور غیر قانونی کیبلز کے مکمل خاتمے، خراب اور جھکے ہوئے کھمبوں اور انسولیٹرز کی فوری تبدیلی، پول ماونٹڈ ٹرانسفارمرز، سروس پولز اور جنکشن بکس کی اپ گریڈیشن کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں انڈر گراؤنڈ نیٹ ورک کو لازمی قرار دیا جائے گا۔
فیصل ایوب کھوکھر نے واضح کیا کہ ہر پندرہ دن بعد پیش رفت رپورٹ محکمہ توانائی کو ارسال کی جائے گی۔ اجلاس میں کیبل ایسوسی ایشن کی جانب سے تجویز دی گئی کہ لائسنس یافتہ آپریٹرز کو غیر قانونی آپریٹرز سے الگ کرکے ٹریٹ کیا جائے اور ریگولیٹری ادارے مرحلہ وار اور مشاورت سے کارروائی کریں، جبکہ کسی بھی اقدام سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔
اجلاس میں شارٹ ٹرم، مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم اصلاحی منصوبے پیش کیے گئے جن میں صوبائی سطح پر حفاظتی معیارات کے نفاذ کے لیے قانون سازی، کم صلاحیت اور اوورلوڈ ٹرانسفارمرز کی تبدیلی، نئی رہائشی اسکیموں میں انڈر گراؤنڈ نیٹ ورک کی پابندی اور بڑے شہروں و ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں مرکزی سڑکوں کی مکمل ری ڈیزائننگ شامل ہے۔ منصوبے پر مقررہ ٹائم لائن کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری توانائی ڈاکٹر فرخ نوید، ایڈیشنل سیکرٹری، ڈی جی ریسکیو سمیت لیسکو، الیکٹرک انسپکٹرز، ایل ڈی اے، ایم سی ایل، ایل جی اینڈ سی ڈی، پی اینڈ ڈی، سی اینڈ ڈبلیو، ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، والڈ سٹی لاہور اتھارٹی، پی ٹی اے، پیمرا، کیبل ایسوسی ایشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔



