لاہور میں تعینات وفاقی و صوبائی سرکاری افسران اور ملازمین کو سرکاری رہائش گاہوں کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین رہائش سے محروم ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی سرکاری تفصیلات کے مطابق ایک ہزار 439 سرکاری افسران و ملازمین تاحال سرکاری گھروں سے محروم ہیں۔محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے انکشاف کیا ہے کہ لاہور میں سرکاری رہائش گاہ کے حصول کے لیے مجموعی طور پر 2 ہزار 608 افسران و ملازمین نے رجسٹریشن کروا رکھی ہے۔ محکمہ اسٹیٹ پنجاب کے مطابق سال 2020 سے جنوری 2026 تک 2 ہزار 608 سرکاری ملازمین سے رہائش گاہوں کے لیے درخواستیں موصول ہوئیں۔محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے پنجاب اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران ایک بھی سرکاری گھر آؤٹ آف ٹرن الاٹ نہیں کیا گیا اور الاٹمنٹ مکمل طور پر قواعد و ضوابط کے مطابق کی گئی۔یہ سوال پنجاب اسمبلی کے رکن محمد زاہد اسماعیل کی جانب سے جمع کرایا گیا تھا، جس کے جواب میں محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن پنجاب نے سرکاری افسران و ملازمین کی رہائش گاہوں سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار ایوان میں پیش کیے۔اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں سرکاری رہائش گاہوں کی قلت ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین کو نجی رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔



