۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پنجاب ڈویلپمنٹ پلان کے ہر پراجیکٹ کی جیو ٹیگنگ کی ہدایت کی اورپنجاب کے ہائی ویز پرمسافروں کی سہولت کیلئے ” واش رومز” کا پلان طلب کرلیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے ہر سیوریج اور ڈرینج پراجیکٹ کیلئے کھدائی کے بعد روڈز کی تعمیر و بحالی مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔پنجاب ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کی مانٹیرنگ کیلئے ہرڈی سی آفس میں کنٹرول روم اور مینجمنٹ سیل قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پی ڈی پی فیز ون کے پراجیکٹس میں شفافیت سے 28کروڑ روپے کے فنڈز کی بچت کی۔ لاہور ڈویلپمنٹ پلان کا پہلا فیز کامیابی سے مکمل کرلیا اور دوسرے فیز پر کام جاری ہے۔پنجاب ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت 7شہروں میں 23 ارب 40 کروڑ روپے کے ترقیاتی پراجیکٹ جاری کیے۔سرگودھا، ڈی جی خان، گجرات، جھنگ میں سیوریج، ڈسپوزل، ڈرینج، واٹرسٹوریج ٹینک بنائے جائیں گے۔جہلم، حافظ آباد اور اوکاڑہ میں ٹرنک سیوریج، نئے ڈسپوزل اور بارشی پانی کے نکاس کیلئے ڈرینج بنیں گے۔پنجاب ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت سیوریج اور ڈرینج سسٹم کیلئے 526 مشینری یونٹ مہیاکیے جائیں گے۔فیز ٹو میں 8شہروں میں سیوریج، ڈرینج اور واٹر ٹینک اور دیگر ترقیاتی پراجیکٹ مکمل ہوں گے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ گلی محلو ں میں ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کیلئے کھودے گئے گڑھوں کو ارد گرد تار لگا کر کور کیا جائے۔ہر روڈ پر مین ہول کا لیول ایک ملی میٹر بھی بلند نہیں ہونا چاہیے تاکہ لوگ ٹھوکر لگنے سے نہ گریں۔ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت پنجاب بھر میں ترقیاتی منصوبوں کا معیار یکساں ہونا ضروری ہے۔ فٹ پاتھ اورروڈز کے اطراف میں یکساں طرز اور کلر کی ٹائلیں لگائی جائیں۔ہر شہر میں گرین بیلٹ اور گرین سپیس بنائی جائے۔ عوام کی سہولت کیلئے اربوں روپے لگائے جار ہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت ایک ہی یوٹیلیٹی کوریڈور بنایا جائے تاکہ پورا محلہ نہ کھودنا پڑے۔بجلی کے پول سڑک کے اطراف بالکل آخر میں لگائے جائیں۔ بیوٹیفکیشن کے بعد بجلی کے تار اور دیگر وائر منظم انداز سے لگائی جائیں، بے ہنگم تاریں نہیں نظر آنی چاہئیں۔تحصیلوں میں بھی سٹریٹ لائٹس لگائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ پلاسٹک نما میٹریل کے یکساں بنے ہوئے نئے مین ہول کور لارہے ہیں۔ فٹ پاتھ کی سائیڈ پر رنگ کرنے کی بجائے پیلے اور کالے پتھر لگائے جائے۔



