نیویارک ( مانیٹر گ ڈیسک ) نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایمرجنسی اجلاس میں امریکا نے ایران کو ایک بار پھر سخت پیغام دیا ہے کہ ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں پر حکومت کی جانب سے ‘وحشیانہ طاقت’ کا استعمال فوری طور پر روکا جائے، ورنہ ‘تمام آپشنز زیرِ غور’ ہیں۔ امریکی مندوب مائیک والٹز نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں ایرانی عوام حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور امریکا ان ‘بہادر’ عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔والٹز نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ‘باتوں والے نہیں بلکہ عمل کرنے والے شخص’ ہیں۔ انہوں نے کہا: "صدر ٹرمپ ایکشن کے آدمی ہیں، اقوام متحدہ میں لامتناہی باتوں کے نہیں۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ قتل عام روکنے کے لیے تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے مظاہرین پر طاقت کا ‘وحشیانہ استعمال’ کیا ہے، جس سے عالمی امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔امریکی مندوب نے ایران میں انٹرنیٹ کی مکمل بندش کی شدید مذمت کی اور الزام عائد کیا کہ یہ اقدام جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے تاکہ دنیا سے زمینی حقائق چھپائے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتی ہے اور تہران کا رویہ نہ صرف اپنے عوام بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔یہ اجلاس امریکا کی درخواست پر بلایا گیا، جہاں ایرانی نمائندے نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکا پر ‘جھوٹ اور پروپیگنڈا’ کا الزام لگایا اور کہا کہ کوئی بھی جارحیت کا ‘فیصلہ کن، متناسب اور قانونی’ جواب دیا جائے گا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، دسمبر 2025 سے جاری احتجاجات میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایران نے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدمات معطل کر رکھی ہیں۔امریکا نے ایران کے عوام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاجات ملک کی معاشی بدحالی اور آزادی کی طلب کا نتیجہ ہیں۔ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اگر قتل عام جاری رہا تو امریکا مزید اقدامات اٹھانے سے نہیں ہچکچائے گا۔یہ تنازعہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ عالمی برادری ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ مزید تفصیلات تفتیش اور پیش رفت کے ساتھ سامنے آئیں گی



