کراچی ( نمائندہ خصوصی ) گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری سے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی گورنر ہاؤس کراچی میں تفصیلی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں صوبے میں جاری ریلوے منصوبوں، ریلوے کی سہولیات کی بہتری اور مجموعی ملکی صورتحال پر گہرے تبادلۂ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ملاقات کے بعد بتایا کہ کراچی سے روہڑی تک تقریباً 480 کلومیٹر لمبی ریلوے لائن کی 2 ارب ڈالر کی لاگت سے اپ گریڈیشن کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس منصوبے سے سندھ کے ریلوے نیٹ ورک میں نمایاں بہتری آئے گی اور مسافروں کو تیز، محفوظ اور جدید سہولیات میسر ہوں گی۔دونوں رہنماؤں نے صوبے میں ریلوے کی موجودہ سہولیات کو مزید بہتر بنانے پر مکمل اتفاق کیا اور اس سلسلے میں مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔وفاقی وزیر حنیف عباسی نے گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی عوامی خدمت کے لیے مسلسل کوششوں اور فلاحی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "گورنر سندھ کی یہ کمٹمنٹ دیگر اربابِ اختیار کے لیے قابلِ تقلید مثال ہے”۔ملاقات کے بعد وفاقی وزیر کا گورنر ہاؤس میں دورہ:وفاقی وزیر نے گورنر ہاؤس میں قائم آئی ٹی سینٹر کا دورہ کیا اور وہاں زیر تعلیم طلباء سے ملاقات کی۔
طلباء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "بہت سنا تھا کہ گورنر ہاؤسز میں یونیورسٹیاں قائم ہوں گی، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ اعزاز کامران خان ٹیسوری کو عطا کیا”۔
اس کے علاوہ وفاقی وزیر نے امید کی گھنٹی، شکایتی سیل اور راشن مارکیٹ کا بھی دورہ کیا اور جاری فلاحی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
وفاقی وزیر نے قائد اعظم کے زیر استعمال تاریخی دفتر کا بھی دورہ کیا اور وہاں موجود یادگار اشیا کو دیکھا۔
حنیف عباسی نے گورنر سندھ کے تمام اقدامات کو "مثالی اور صحیح معنوں میں فلاحی ریاست کا نمونہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ملک بھر میں رول ماڈل بن سکتے ہیں۔یہ ملاقات اور دورہ سندھ میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی تعاون اور ترقیاتی منصوبوں کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مزید مشترکہ منصوبوں پر کام جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔



