لاہور ( کرائم رپورٹر ) شادمان پولیس نے ایک چالاکانہ منصوبہ بندی کے تحت رچائی گئی جعلی ڈکیتی کے مقدمے کو حل کر دیا ہے۔ واردات کا ماسٹر مائنڈ ایک نجی کمپنی کا کیشئر ملازم نکلا، جس نے کمپنی کی جمع شدہ رقم ہڑپنے کے لیے ڈکیتی کا مکمل ڈرامہ رچایا تھا۔ترجمان لاہور پولیس کے مطابق ملزم کمپنی میں بطور کیشئر ملازمت کر رہا تھا۔ اس نے کمپنی کی کولیکشن کی رقم اپنے قبضے میں رکھنے کے لیے ایک منصوبہ بنایا اور خود کو لوٹنے والا ظاہر کرنے کے لیے پولیس کنٹرول روم کو 15 جھوٹی کالز کیں۔ملزم کے بیان کے مطابق مبینہ طور پر شادمان مارکیٹ کے قریب دو نامعلوم افراد نے گن پوائنٹ پر کمپنی کی رقم اور اس کا موبائل فون چھین کر فرار ہو گئے تھے۔ تاہم پولیس کی تیز اور موثر تفتیش کے نتیجے میں ملزم زیادہ دیر تک پولیس کو بہکانے میں ناکام رہا اور اعتراف جرم کر لیا۔تحقیقات کے دوران ملزم کے قبضے سے چھینی گئی تمام رقم برآمد کر لی گئی ہے۔ پولیس نے اس واردات میں ملوث ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا ہے۔ ایس ایچ او شادمان نے تصدیق کی کہ یہ ایک سوچی سمجھی جعلی ڈکیتی تھی جس کا واحد مقصد کمپنی کی رقم ہتھیانا تھا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی دھوکہ دہی کے واقعات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور ایسے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو امانت میں خیانت کرتے پائے جائیں۔شادمان پولیس کی یہ کامیابی ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ جعلی وارداتوں کا پردہ فاش کرنے میں پولیس کی تفتیشی صلاحیت کس قدر موثر ہے۔ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے ۔



