اسلام آباد ( اسٹاف رپورٹر ) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اہم اجلاس میں اسلام آباد اور راولپنڈی (جڑواں شہروں) میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے جامع ہنگامی پلان پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں سی ڈی اے اور پنجاب حکومت کے تعاون سے مشترکہ طور پر نئے ڈیمز کی تعمیر کو ترجیح دی گئی تاکہ شہریوں کو بروقت اور معیاری پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اجلاس میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر سید توقیر شاہ سمیت سیکرٹری داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے، کمشنر راولپنڈی، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واڈا) اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اہم فیصلے اور اقدامات:دوتارہ ڈیم (110 ایم ڈی جی سٹوریج کی گنجائش) کو دو سال میں مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ ڈیم خانپور ڈیم کے بالائی علاقے میں تعمیر کیا جائے گا جو 72 ملین گیلن روزانہ پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چراہ اور شاہدرہ ڈیمز سمیت دیگر چھوٹے ڈیمز اور واٹر ریزروائرز کی تعمیر پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور انہیں شارٹ ٹرم حل کے طور پر تیز کرنے کا حکم دیا گیا۔
واڈا اور سی ڈی اے نے پانی کی فراہمی بڑھانے کے مختلف آپشنز، فزیبلٹی رپورٹس اور متوقع ٹائم لائنز پیش کیں۔
موجودہ پانی کی تقسیم کے نیٹ ورک میں خامیوں کو دور کرنے، پانی کی چوری اور غلط استعمال کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا حکم جاری کیا گیا۔
وزیر داخلہ نے 10 دن کے اندر مکمل روڈ میپ اور جامع پلان طلب کر لیا اور تمام متعلقہ اداروں کو فوری طور پر اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی۔
محسن نقوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "اسلام آباد کے شہریوں کے لیے پانی کی فراہمی اولین ترجیح ہے”۔ انہوں نے زور دیا کہ قلیل مدتی پلان کے تحت تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ لانگ ٹرم منصوبوں پر بھی تیزی سے کام کیا جائے گا۔یہ اقدام جڑواں شہروں میں پانی کی بڑھتی ہوئی طلب اور موجودہ ذرائع کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ موجودہ نظام سے شہر کو تقریباً 70 ایم جی ڈی پانی مل رہا ہے جبکہ ضرورت 220 ایم جی ڈی سے زائد ہے۔ نئے ڈیمز کی تکمیل سے یہ خلا نمایاں طور پر کم ہو جائے گا اور شہریوں کو ریلیف ملے گا۔حکومت کا عزم ہے کہ پانی کی قلت کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے اور شہریوں کو معیاری پانی دہلیز پر دستیاب ہو



