واشنگٹن (نیوز ڈیسک ۔ انٹرنیشنل ڈیسک ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک طویل بیان میں نیٹو اتحاد پر شدید تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ امریکا کے بغیر نیٹو بے اثر ہے اور روس اور چین کو اس کا بالکل خوف نہیں۔صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ روس اور چین صرف اس امریکا سے ڈرتے اور احترام کرتے ہیں جسے انہوں نے دوبارہ تعمیر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نیٹو کا حصہ نہ ہوتا تو یہ دونوں ممالک نیٹو سے بالکل نہیں گھبراتے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں شک ہے کہ ضرورت پڑنے پر نیٹو امریکا کا ساتھ دے گا، لیکن امریکا ہمیشہ نیٹو کے لیے موجود رہے گا چاہے نیٹو ان کے لیے موجود نہ ہو۔انہوں نے اپنے پہلے دورِ صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی آمد سے قبل نیٹو کے اکثر رکن ممالک دفاعی اخراجات کی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے تھے، لیکن انہوں نے ممالک کو دفاعی بجٹ جی ڈی پی کا 5 فیصد تک بڑھانے پر مجبور کیا اور اب وہ فوری ادائیگیاں کر رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے یوکرین تنازع پر بھی بات کی اور دعویٰ کیا کہ اگر ان کی مداخلت نہ ہوتی تو روس اس وقت پورے یوکرین پر قابض ہو چکا ہوتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اکیلے ہی 8 جنگیں ختم کروائیں اور لاکھوں جانیں بچائیں، لیکن نیٹو رکن ملک ناروے نے انہیں نوبل امن انعام دینے سے انکار کر دیا، جو کہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گرین لینڈ کے معاملے پر نیٹو ممالک اور امریکا کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے۔ ٹرمپ کا یہ موقف نیٹو اتحاد کی یکجہتی پر نئے سوالات اٹھا رہا ہے



