لاہور ( اسٹاف رپورٹر ۔ کامرس رپورٹر ۔ نمائندہ خصوصی ) پنجاب حکومت کی آسان کاروبار فنانس سکیم میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات زیر تفتیش ہیں۔ ذرائع کے مطابق، تحقیقات کے دوران بے ضابطگیوں کا حجم مسلسل بڑھتا جا رہا ہے اور یہ کروڑوں سے اربوں روپے میں داخل ہو چکا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بنکنگ سافٹ ویئر میں ایک تکنیکی خامی (گلچ) کی وجہ سے کئی اکاؤنٹ ہولڈرز کو منظور شدہ رقم سے دگنی رقم ٹرانسفر ہوئی۔ اس کے علاوہ، بعض معاملات میں ہیکنگ کے آثار بھی ملے ہیں۔ یہ غیر معمولی ٹرانزیکشنز 21 دسمبر 2025 سے شروع ہو کر 31 دسمبر 2025 تک جاری رہیں، اور بنک حکام کو دس دن بعد معاملے کا پتہ چلا، جس پر اضافی ٹرانزیکشنز کا سلسلہ فوری بند کر دیا گیا۔ متاثرہ اکاؤنٹس کو بنک کی جانب سے بلاک کر دیا گیا ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے مطابق، کئی افراد نے ازخود رابطہ کر کے تفتیش میں شامل ہونے کی پیشکش کی ہے۔ کیس میں شامل افراد کی ایک بڑی تعداد بے گناہ ہے، جبکہ بعض نے سادہ لوح شہریوں سے ان کے اے ٹی ایم کارڈز حاصل کر کے اضافی رقم خود ہڑپ کر لی۔ تفتیش کے دوران بے گناہ اور مجرم افراد کا تعین کیا جا رہا ہے اور ان سے الگ الگ انداز میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔یاد رہے کہ آسان کاروبار سکیم چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو بلا سود قرضے فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی، تاکم صوبے میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ تحقیقات مکمل ہونے پر مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔



